Middle East · Yemen · Diplomacy
یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی بڑھتی جا رہی ہے انہوں نے بحیرۂ احمر پر موجود 'المخا' نامی بندرگاہ پر قبضہ کیا ہے جبکہ باب المندب تک پہنچنے کا دعوٰی کیا ہے۔ یہ پیش قدمی سعودیہ کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
Source: P4P Global Desk
یمن میں قبائلی نظام رائج ہے اور اطلاعات کے مطابق سنی قبائل بھی اب حوثیوں کی حمایت کر رہے ہیں جو زیدی شیعہ ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا شفٹ ہے جس کی وجہ سے حوثیوں کی یہ پیش قدمی ممکن ہوئی ہے۔ یمن کے دیگر قبائل نے حوثیوں کا کردار صیہونی ریاست کے خلاف دیکھا ہے اور امریکہ و ایران جنگ میں ان کا دل ایران کے ساتھ بالعموم اور حوثیوں کے ساتھ بالخصوص نرم ہوا ہے۔
سعودیہ کو تصادم کے بجائے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنا چاہیے۔ یہ حوثی اب دس سال پہلے والے نہیں ہیں، اب ان کی دفاعی قوت بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے ڈرونز اور میزائل میں حیرت انگیز ترقی کی ہے جبکہ شمالی یمن کا مشکل پہاڑی سلسلہ بھی انہیں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
لہٰذا اب حوثیوں کو جنگ کے ذریعے شکست دینے کا سوچنا محال ہے۔ حوثی 'ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے" کے مصداق سعودیہ کو ناقابل تلافی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ایران کی ثالثی میں حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کریں اور انہیں مین اسٹریم یمنی حکومت میں شامل کریں۔
اس کام کے لئے پاکستان کی معاونت بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ خطے میں اب امن کی بہت ضرورت ہے اور غیر ضروری مقامی لڑائیوں سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرنا بہتر ہے، لڑائی سے ہمیشہ نقصان ہی ہوتا ہے۔
والسّلام
سیدجوادرضوی